بھٹکل:3/مارچ (ایس اؤ نیوز) انسانی زندگی میں روٹی اورکپڑا بڑی اہمیت کے حامل ہیں، ہر کوئی اسی کے لئے دوڑ دھوپ کرتا رہتا ہے، اس کے باوجود ایک لقمے اور ٹکڑا کپڑے کے لئے لوگ خانہ بدوشی کے لئے مجبور ہونے کو ہم دیکھتے ہیں۔ویسے سماوی آفات زلزلہ، طوفان، سیلاب وغیرہ کے موقعوں پر کیا غریب ،کیا امیر سبھی روٹی ،کپڑا سمیت بنیادی سہولیات کے محتاج رہتے ہیں۔ ایسے ہی موقعوں پر انسانی خدمات کو انجام دیتےہوئے اپنی ایک شناخت بنانے والی بھٹکل کپڑا بینک آج ایک مثال بن گئی ہے۔
جدید فیشن کے زمانےمیں مختلف ڈیزائنوں اور رنگوں کے کپڑوں کی بھرمار ہے، جو کوئی کسی ایک کپڑے کو 5-6مہینے پہنتا ہے تو اس سے بیزا ر ہوکر کچرے میں پھینک دیتا ہے ، ایسا ملک کے کئی بڑے شہروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایسے پرانے کپڑوں کو جمع کرکے مصیبت زدہ عوام میں تقسیم کرنے کامقصد لے کر بھٹکل میں پانچ برس پہلے عبدالمنیم کوبٹے اور ڈاکٹر عبدالحمید اطہر ندوی کی نگرانی میں کپڑا بینک کی بنیاد رکھی گئی، بینک کے کل 30ممبران ہیں ، جب کہ ابوطلحہ بینک مینجر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شہر بھٹکل کے عوام نے اپنے نئے پرانے کپڑے کپڑا بینک میں جمع کرنا شروع کردیا۔ جس کے نتیجےمیں ڈھیر سارے کپڑے میسر آئے ۔ بینک کی طرف سے ان کپڑوں کی دھلائی، سلائی وغیرہ کرتےہوئے بالکل نئے کپڑو ں کی مانند چمک دار بنا کر پیک کیا جاتا ہے۔ بھٹکل کے آس پاس سمیت ملک بھر میں جب بھی جہاں ضرورت پڑتی ہے وہاں ان کپڑوں کو سپلائی کیاجاتاہے۔ بینک ذمہ داران کے مطابق اب تک بھٹکل کپڑا بینک کی طرف سے آسام، بہار، مہاراشٹرا، چنئی وغیرہ کو ضرورت کے مطابق خواتین ، بچے ، مرد وغیرہ کے کپڑے ارسال کئے گئےہیں۔ بھٹکل کپڑا بینک کی خدمات کتنی اہمیت رکھتی ہیں اسی سے اندازا لگالیجئے کہ اب تک بینک کے ذریعے 30لاکھ سے زائد لوگ اس سے مستفید ہوئے ہیں۔ قابل غور یہ بھی ہے کہ اس کے لئے جو بھی اخراجات ہیں وہ سب ممبران اور عطیہ کنندگان کی امداد سے پورے ہوتےہیں۔
کپڑا بینک کے قیام کی وجہ سے بھٹکل کے کچروں میں کپڑے بہت ہی کم نظر آتے ہیں۔ ایک طرح سے کپڑا بینک ماحولیات سے آلودگی کو پاک کرنےمیں بھی ممد ومعاون ثابت ہورہی ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کی ماحولیاتی آلودگی کمیٹی کی ممبر آل میترا نے کپڑا بینک کا دورہ کیا تھا جنہوں نے اس کپڑا بینک کی خدمات کی نہ صرف ستائش کی بلکہ اسی کو مثال بنا کر پورے ملک میں ایسے بینک قیام کرنے کی خواہش ظاہر کرتےہوئے حکومت کو سفارش کرنے کی بات بھی کہی ۔
کپڑا بینک سے آگے بڑھ کر ذمہ داران نے چھوٹے پیمانے پر ہی سہی فوڈ بینک ، بک بینک کا قیام بھی کیا ہے۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر بچنے والے کھانوں کو بینک کے ذمہ داران غریبوں میں تقسیم کرنے کا انتظام کرتےہیں۔ غریب بچوں کو اسکول کے تعلیمی لوازمات کو بھی مہیا کرتےہیں اور بعض اوقات بچوں کی فیس ادا کرنے کا بھی انتظام کیا جاتاہے۔ کچھ اس طرح کپڑا بینک نے انسانیت کی خدمات کا بیڑا اٹھایاہے۔
آپ بھی چاہیں تو اپنے غیر استعمال شدہ کپڑے اس بینک میں جمع کرکے ثواب دارین میں شامل ہوسکتے ہیں۔